قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنَ الْخَسْفِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5530.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فَذَكَرَ الدُّعَاءَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ

سنن نسائی:

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: دھنسائے جانے سے اللہ تعالی کی پناہ مانگنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5530.   حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ نبئ اکرم ﷺ فرمایا کرتےتھے: اےاللہ! پھر راوی نے دعا ذکر کی جس کے آخر میں یہ لفظ ہیں۔ ”میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جائے۔“ ان الفاظ سے آپ کا مقصد دھنسائےجانے سے پناہ طلب کرنا تھا۔