قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ السُّكْرِ)

حکم : ضعيف الإسناد موقوفا ، لكن ، الصحيحة مرفوعا ، و انظر حديث بريدة المشار إليه آنفا

ترجمۃ الباب:

5679.   أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَجَّاجٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ قِرْصَافَةَ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَهَذَا أَيْضًا غَيْرُ ثَابِتٍ وَقِرْصَافَةُ هَذِهِ لَا نَدْرِي مَنْ هِيَ وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَائِشَةَ خِلَافُ مَا رَوَتْ عَنْهَا قِرْصَافَةُ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5679.   قرصافہ نامی ایک عورت سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ہر مشروب پی سکتے ہو مگر نشے میں نہ آؤ۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائیؒ) نے فرمایا کہ یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ ہم (محدثین) نہیں جانتے یہ قرصافہ کون اور کیسی عورت ہے جب کہ حضرت عائشہ ؓ سے مشہور روایات اس کے خلاف ہیں جو ان سے قرصافہ نے بیان کیا ہے۔