قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الطِّلَاءِ، وَمَا لَا يَجُوزُ)

حکم : حسن الإسناد موقوف ، و هو بالإسرائيليات أشبه

ترجمۃ الباب:

5726.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازَعَهُ الشَّيْطَانُ فِي عُودِ الْكَرْمِ فَقَالَ هَذَا لِي وَقَالَ هَذَا لِي فَاصْطَلَحَا عَلَى أَنَّ لِنُوحٍ ثُلُثَهَا وَلِلشَّيْطَانِ ثُلُثَيْهَا

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5726.   حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو فرماتے سنا کہ حضرت نوح ؑ سے شیطان نے انگور کی بیل کے بارے میں جھگڑا کیا۔ انھوں نے فرمایا: یہ میری ہے۔ شیطان نے کہا: یہ میری ہے۔ آخر دونوں نے اس بات پر صلح کرلی کہ ایک تہائی حضرت نوح ؑ کی ہوگی اور دو تہائی شیطان کی۔