قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْعَصِيرِ، وَمَا لَا يَجُوزُ)

حکم : صحیح الإسناد موقوف

ترجمۃ الباب:

5729.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ الْعَصِيرِ فَقَالَ اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا قَالَ إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ قَالَ أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ قَالَ لَا قَالَ فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: انگوروں کا جوس کس حال میں پینا جائز ہے اور کس میں ناجائز ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5729.   حضرت ابو ثابت ثعلبی سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے انگوروں کے جوس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: جب تک وہ تازہ ہو، تم پی سکتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے ایک مشروب کو آگ پر پکایا ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں اطمینان نہیں۔ انھوں نے فرمایا: کیا اس کو پکانے سے پہلے تو اسے پی سکتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ انھوں نے فرمایا: پھر آگ تو کسی حرام چیز کو حلال نہیں کرسکتی۔