قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ، وَمَا لَا يَجُوزُ)

حکم : صحیح الإسناد موقوف

ترجمۃ الباب:

5740.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنْ اللَّيْلِ وَيُنْبَذُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً وَكَانَ يَغْسِلُ الْأَسْقِيَةَ وَلَا يَجْعَلُ فِيهَا دُرْدِيًّا وَلَا شَيْئًا قَالَ نَافِعٌ فَكُنَّا نَشْرَبُهُ مِثْلَ الْعَسَلِ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5740.   حضرت ابن عمر ؓ سے متعلق روایت ہے کہ ان کے لیے صبح کے وقت مشکیزے میں منقی بھگویا جاتا تورات کو پی لیتےاور شام کے وقت بھگویا جاتا تو دن کو پی لیتے۔ آپ مشکیزوں کو اچھی طرح دھویا کرتے تھےاور تلچھٹ وغیرہ کوئی چیز اس میں نہیں ڈالتےتھے۔ حضرت نافع (حضرت ابن عمر ؓ کے مولیٰ اور شاگرد) نے فرمایا کہ ہم اس کو نبیذ پیتے تھے تووہ شہد جیسی ہوتی تھی۔