قسم الحديث (القائل): مقطوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ، وَمَا لَا يَجُوزُ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

5746.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ إِنَّمَا سُمِّيَتْ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5746.   حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا: شراب کو شراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے رکھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جب صاف صاف (جوس) ختم ہوجاتا ہے اور نیچے میل کچیل اور تلچھٹ باقی رہ جاتی ہے (تواسے استعمال کیا جاتا ہے(اس لیے) وہ ہر اس نبیذ کو ناپسند فرماتے تھے جس میں تلچھت شامل کی جائے۔