قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ الْوَقْتُ الَّذِي يَجْمَعُ فِيهِ الْمُسَافِرُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

591.   أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ هِبْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ فَسَارَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ عَلَى إِثْرِهَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مسافر مغرب اور عشاء کی نمازوں کو کس وقت جمع کرے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

591.   قریش کے ایک بزرگ اسماعیل بن عبدالرحمن نے کہا: میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ حمٰی (مدینہ منورہ سے قریب ایک چراگاہ) تک رہا۔ جب سورج غروب ہوگیا تو میں ڈرتا ہی رہا کہ آپ سے کہوں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مغربی کنارے کی سفیدی ختم ہوگئی اور عشاء (رات) کی سیاہی آگئی۔ پھر آپ اترے اور مغرب کی نماز تین رکعات پڑھیں، پھر اس کے بعد عشاء کی دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔