قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

615.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو آدمی نماز سے سویا رہے تو...؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

615.   حضرت ابوقتادہ ؓ سے منقول ہے کہ صحابہ نے نبی ﷺ سے ذکر کیا کہ کبھی ہم نماز سے سوئے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”نیند آجانے میں قصور اور کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو یہ ہے کہ آدمی جاگتا ہوا نماز نہ پڑھے، چنانچہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے (یا جاگے) تو اسی وقت نماز پڑھ لے۔“