قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَذَانِ (بَابُ الْأَذَانِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

641.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا يَعْنِي فِي الصُّبْحِ

سنن نسائی:

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: نماز کے وقت سے پہلے اذان کہنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

641.   حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: تحقیق بلال رات کو اذان کہتے ہیں تاکہ سونے والے کو جگائیں اور قیام کرنے والے کو قیام سے لوٹائیں (تاکہ وہ کچھ آرام کرلے) اور صبح صادق ایسی نہیں ہوتی (جیسی بلال کی اذان کے وقت ہوتی ہے)۔“