قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: تقريري

سنن النسائي: كِتَابُ الْقِبْلَةِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَمَا لَا يَقْطَعُ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي سُتْرَةٌ)

حکم : صحيح

ترجمۃ الباب:

755.   أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ انْسَلَلْتُ انْسِلَالًا

سنن نسائی:

کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جب نمازی کے آگے سترہ نہ ہوتو کونسی چیزیں نمازتوڑتی ہیں اور کونسی نہیں؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

755.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ جب میں اٹھنے کا ارادہ کرتی تو پسند نہ کرتی کہ سیدھی کھڑی ہوں اور آپ کے آگے سے گزروں، اس لیے میں لیٹی لیٹی کھسک جاتی۔