قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْإِمَامَةِ (بَابٌ كَيْفَ يُقَوِّمُ الْإِمَامُ الصُّفُوفَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

811.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ

سنن نسائی:

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: امام صفوں کو کیسے سیدھا کرے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

811.   حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ (تکبیر تحریمہ کہنے سے قبل) ایک سرے سے دوسرے سرے تک صفوں کے درمیان چلا کرتے تھے۔ ہمارے کندھوں اور سینوں کو ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے اور فرماتے تھے: آگے پیچھے کھڑے نہ ہو ورنہ تمھارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہو جائیں گے (ان میں پھوٹ پڑ جائے گی)۔ اور فرماتے تھے: تحقیق اللہ تعالیٰ اگلی صفوں کے لیے خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اور اس کے فرشتے ان کے لیے خصوصی رحمتیں طلب کرتے ہیں۔