قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات وشمائل للنبیﷺ

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ عِنْدَ الْفَزَعِ​)

حکم : صحیح (الألباني)

1685. حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَقَالَ مَا كَانَ مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی: كتاب: جہاد کے احکام ومسائل (باب: گھبراہٹ کے وقت باہرنکلنے کا بیان​)

مترجم: ٢. فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1685.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ ابوطلحہ کے گھوڑے پرسوار ہوگئے اس گھوڑے کو مندوب کہا جاتا تھا : کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندرپایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۔ اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے بھی روایت ہے ۔