قسم الحديث (القائل): قدسی ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ ص​)

حکم : صحیح 

3235. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى عَيْنَ الشَّمْسِ فَخَرَجَ سَرِيعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ فَقَالَ لَنَا عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمْ الْغَدَاةَ أَنِّي قُمْتُ مِنْ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي فَاسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ مَا هُنَّ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ قَالَ ثُمَّ فِيمَ قُلْتُ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ سَلْ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ و قَالَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ اللَّجْلَاجِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَايِشٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ هَكَذَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَايِشٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جامع ترمذی: كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں (باب: سورہ "ص" سے بعض آیات کی تفسیر​)

مترجم:

3235. معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں : ایک صبح رسول اللہ ﷺنے ہمیں صلاۃ پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھرآپ تیزی سے (حجرہ سے) باہر تشریف لائے ، لوگوں کو صلاۃ کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے صلاۃ پڑھائی، اور صلاۃ مختصر کی ، پھر جب آپ نے سلام پھیراتو آواز دے کر لوگوں کو (اپنے قریب) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا:'' میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجرمیں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضوکیا، (تہجد کی) صلاۃ پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں صلاۃ میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آگئی، اچانک کیا دیکھتاہوں کہ میں اپنے بزرگ وبرتر رب کے ساتھ ہوں و ہ بہتر صورت وشکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: ملا ٔعلی (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑرہی ہے؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا:'' میں نے اللہ ذوالجلال کودیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہرچیز میرے سامنے روشن ہوکرآگئی، اور میں جان گیا (اورپہچان گیا) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں ، اس نے کہا: ملا ٔاعلی کے فرشتے کس بات پرجھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات کے بارے میں، اس نے پوچھا : وہ کیاہیں؟ میں نے کہا: صلاۃ باجماعت کے لیے پیروں سے چل کرجانا، صلاۃ کے بعد مسجد میں بیٹھ کر (دوسری صلاۃکے انتظارمیں ) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا ، اس نے پوچھا: پھر کس چیزکے بارے میں (بحث کررہے ہیں) ؟ میں نے کہا: (محتاجوں اورضرورت مندوں کو) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں،جب لوگ سورہے ہوں اس وقت اٹھ کر صلاۃ پڑھنے کے بارے میں، رب کریمنیفرمایا: مانگو(اور مانگتے وقت کہو) کہو: ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ'' ۱؎ ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ''۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاکہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمن بن یزیدبن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں : مجھ سے بیان کیاعبدالرحمن بن عائش حضرمی نے،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولیدنے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے ، روایت کیاعبدالرحمن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے راویت کیا، عبدالرحمن بن عائش سے اورعبدالرحمن نے نبی اکرم ﷺ سے(بلفظ ''عن'' اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن عائش نے نبی اکرمﷺسے نہیں سنا ہے۔