قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِّ بِهَا​)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

1289.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

جامع ترمذی:

كتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل 

  (

باب: راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1289.   عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺسے لٹکے ہوئے پھل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جو ضرورت مند اس میں سے (ضرورت کے مطابق) لے لے اور کپڑے میں جمع کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔