قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1340.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قَالَ لَا قَالَ فَلَكَ يَمِينُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ قَالَ لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ لِيَحْلِفَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِكَ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں 

  (

باب: گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1340.   وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں: دوآدمی ایک حضرموت سے اورایک کندہ سے نبی اکرمﷺ کے پاس آئے۔ حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! اس (کندی) نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے، اس پر کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے، اس پر اس (حضرمی) کا کوئی حق نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺنے حضرمی سے پوچھا: ’’تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ’’پھر تو تم اس سے قسم ہی لے سکتے ہو‘‘، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! وہ فاجر آدمی ہے اسے اس کی پرواہ نہیں کہ وہ کس بات پر قسم کھا رہاہے۔ اور نہ وہ کسی چیز سے احتیاط برتتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ’’اس سے تم قسم ہی لے سکتے ہو‘‘۔ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے جب وہ پیٹھ پھیرکرجانے لگا فرمایا: اگر اس نے ظلماً تمہارا مال کھانے کے لیے قسم کھائی ہے تووہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے رخ پھیرے ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں عمر، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، اور اشعث بن قیس‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔