قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدِّيَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ أَمْ لاَ​)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

1399.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ قَالَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ الْأَبَ مِنْ ابْنِهِ وَلَا يُقِيدُ الِابْنَ مِنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُرَاقَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ رَوَاهُ إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مُرْسَلًا وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْأَبَ إِذَا قَتَلَ ابْنَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ وَإِذَا قَذَفَ ابْنَهُ لَا يُحَدُّ

جامع ترمذی:

كتاب: دیت وقصاص کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: آدمی اپنے بیٹے کوقتل کردے توکیا قصاص لیا جائے گا یانہیں؟​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1399.   سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، (تودیکھا) کہ آپ باپ کو بیٹے سے قصاص دلواتے تھے اوربیٹے کو باپ سے قصاص نہیں دلواتے تھے۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ سراقہ ؓ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اس کی سند صحیح نہیں ہے، اسے اسماعیل بن عیاش نے مثنیٰ بن صباح سے روایت کی ہے اورمثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔۲۔ اس حدیث کو ابوخالد اُحمرنے بطریق: «حجاج بن أرطاة، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، عن عمر رضي الله عنه، عن النبي ﷺ» روایت کیا ہے۔۳۔ یہ حدیث عمروبن شعیب سے مرسلاً بھی مروی ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے۔۴۔ اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کو قتل کردے تو بدلے میں (قصاصاً) اسے قتل نہیں کیاجائے گا اورجب باپ اپنے بیٹے پر (زناکی) تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں ہوگی۔