قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّيْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1488.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ قَالَ قِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ فَقَالَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَهُ زَرْعٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: شکار کے احکام ومسائل 

  (

باب: کتاپالنے سے ثواب میں کمی کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1488.   عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شکاری یا جانوروں کی نگرانی کرنے والے کتے کے علاوہ دیگر کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ابن عمرسے کہا گیا: ابوہریرہ یہ بھی کہتے تھے: ’’أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ‘‘ یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے (یعنی یہ بھی مستثنیٰ ہیں)، تو ابن عمر ؓ نے کہا: ابوہریرہ کے پاس کھیتی تھی (اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا ہو گا)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔