قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2001.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَقُولُونَ فِيَّ التِّيهُ وَقَدْ رَكِبْتُ الْحِمَارَ وَلَبِسْتُ الشَّمْلَةَ وَقَدْ حَلَبْتُ الشَّاةَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ هَذَا فَلَيْسَ فِيهِ مِنْ الْكِبْرِ شَيْءٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں 

  (

باب: تکبراورگھمنڈ کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2001.   جبیربن مطعم ؓ کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ میرے اندرتکبر ہے، حالانکہ میں نے گدھے کی سواری کی ہے، موٹی چادرپہنی ہے اوربکری کا دودھ دوہا ہے اوررسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس نے یہ کام کیے اس کے اندر بالکل تکبرنہیں ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔