موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
جامع الترمذي: أَبْوَابُ الشَّهَادَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ)
حکم : صحیح
2301 . حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ»؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ» قَالَ: «فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
جامع ترمذی:
كتاب: شہادت( گواہی) کے احکام ومسائل
باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کابیان
)مترجم: ٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)
2301. ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟‘‘ صحابہ نے عر ض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اورجھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا‘‘،ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔