قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: منقطع قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَالاَ يَعْنِيه)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2316.   حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَعْنِي رَجُلًا أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَا تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لَا يَنْقُصُهُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: لایعنی بات کے برے انجام کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2316.   انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہوگئی، ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شاید تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو بے فائدہ ہو، یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔