قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2345.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: اللہ پرتوکل(بھروسہ) کرنے کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2345.   انس بن مالک ؓ کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانے میں دوبھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرمﷺ کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت ومزدوری کرتا تھا، محنت ومزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔