قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الصِّرَاطِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2433.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَنَا فَاعِلٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ قَالَ اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

جامع ترمذی:

كتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: پل صراط کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2433.   انس بن مالک ؓ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپﷺ نے فرمایا: ’’ضرور کروں گا‘‘۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !میں آپﷺ کو کہاں تلاش کروں گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈھنا‘‘، میں نے عرض کیا: اگرپل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہوسکے، تو فرمایا: ’’تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈھنا‘‘، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہوسکے تو؟ فرمایا: ’’اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈھنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔