قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ​)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

2777.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَفَعَهُ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ

جامع ترمذی:

کتاب: آداب واحکام کا بیان 

  (

باب: ( غیر محرم پر) اچانک نظرپڑجانے کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2777.   بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیوں کہ تمہارے لیے پہلی نظر (معاف) ہے اور دوسری (معاف) نہیں ہے‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔