قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: منقطع قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2795.   حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ انْكَشَفَ فَخِذُهُ فَقَال إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ

جامع ترمذی:

کتاب: آداب واحکام کا بیان 

  (

باب: ران کے ستر(شرمگاہ) میں داخل ہونے کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2795.   جرہد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں جرہد کے پاس (یعنی میرے پاس سے) سے گزرے (اس وقت) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ران بھی ستر (چھپانے کی چیز) ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن ہے۔۲۔ میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔