قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3158.   حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .

جامع ترمذی:

كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں 

  (

باب: سورہ مریم سے بعض آیات کی تفسیر​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3158.   عبداللہ بن عباس ؓ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ؑ  سے کہا: ’’جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ آنے سے آپ کو کیا چیز روک رہی ہے؟  اس پر آیت ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ﴾۱؎ نازل ہوئی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔