قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ وَالنَّجْمِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3282.   حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ فَقَال عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ قُلْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ فَقَالَ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

جامع ترمذی:

كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں 

  (

باب: سورہ نجم سے بعض آیات کی تفسیر​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3282.   عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرمﷺ کو پایا ہوتا تو آپﷺ سے پوچھتا، انہوں نے کہا: تم آپﷺ سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ (محمد ﷺ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر ؓ نے کہا: میں نے آپﷺ سے یہ بات پوچھی تھی، آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔