قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ دُعاء للَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3492.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِكَتِفِي فَقَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي يَعْنِي فَرْجَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى

جامع ترمذی:

كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں 

  (

باب: اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3492.   شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! مجھے کوئی ایسا تعویذ (پناہ لینے کی دعا) سکھا دیجئے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، توآپﷺ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: ’’کہو (پڑھو): (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي يَعْنِي فَرْجَهُ)۱؎ (منی سے مراد شرمگاہ ہے۔) امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن غریب ہے، اورہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی ’’سعدبن اوس، عن بلال بن یحییٰ‘‘ کے طریق سے جانتے ہیں۔