قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ اِقتَدُو بِالَّذِینَ مِن بَعدِی اَبِی بَکرِِ وَعُمَرُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3679.   حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ إِسْحَقَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنْ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْنٍ وَقَالَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: میرے بعد ابو بکر وعمرؓ کی پیروی کرو

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3679.   ام المومنین عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے۔۲۔ بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں (عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ) کہا ہے۔