قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مِنْ فَضْلِ عَائِشَةَؓ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3886.   حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ قَالَ عَائِشَةُ قَالَ مِنْ الرِّجَالِ قَالَ أَبُوهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: حضرت عائشۃؓ کی فضیلت کے بیان میں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3886.   عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! لوگوں میں آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’عائشہ‘‘، انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ان کے والد‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔