قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ مِنْهُ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

444.   وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ الأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الأَعْمَشِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ، وَأَقَلُّ مَا وُصِفَ مِنْ صَلاَتِهِ بِاللَّيْلِ تِسْعُ رَكَعَاتٍ

جامع ترمذی:

كتاب: نماز کے احکام ومسائل 

  (

باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

444.   سفیان ثوری نے بھی یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے، ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔