قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الزَّكَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

680.   حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ فَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنْ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَمَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَثَوْبَانَ وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَأَنَسٍ وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ وَسَمُرَةَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ عَنْ قَيْسٍ

جامع ترمذی:

كتاب: زکاۃ وصدقات کے احکام ومسائل 

  (

باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

680.   ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:’’تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھڑ اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے (یعنی اس کی قیمت میں سے) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے (یعنی ان سے نہ مانگے) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔۲- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے۔۳- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔