قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ الْمُعْتَكِفِ يَخْرُجُ لِحَاجَتِهِ أَمْ لاَ؟​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

804.   حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ قِرَائَةً عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا اعْتَكَفَ أَدْنَى إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ. وَالصَّحِيحُ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ

جامع ترمذی:

كتاب: روزے کے احکام ومسائل 

  (

باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے نکل سکتاہے یانہیں؟​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

804.   ام المومنین عائشہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میرے قریب کر دیتے میں اس میں کنگھی کر دیتی۱؎ اور آپ گھر میں کسی انسانی ضرورت کے علاوہ۲؎ داخل نہیں ہوتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲- اسی طرح اسے دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: ’’مالك، عن ابن شهاب، عن عروة و عمرة، عن عائشة‘‘ روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اسے بطریق: ’’مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عمرة، عن عائشة‘‘ روایت کیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ابن شہاب زہری نے اسے عروہ اور عمرہ دونوں سے اور ان دونوں نے عائشہ سے روایت کیا ہے۔