قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْقِبْلَةِ)

حکم : منکر

ترجمة الباب:

1010 .   حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَصُرِفَتْ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ بَعْدَ دُخُولِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِشَهْرَيْنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَكْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْهِهِ فِي السَّمَاءِ وَعَلِمَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَهْوَى الْكَعْبَةَ فَصَعِدَ جِبْرِيلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ وَهُوَ يَصْعَدُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ يَنْظُرُ مَا يَأْتِيهِ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ الْآيَةَ فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسٍ وَنَحْنُ رُكُوعٌ فَتَحَوَّلْنَا فَبَنَيْنَا عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جِبْرِيلُ كَيْفَ حَالُنَا فِي صَلَاتِنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ(البقرۃ:143

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: قبلے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1010.   حضرت براء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کیں، پھر آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے دو ماہ بعد کعبہ کو قبلہ مقرر کر دیا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ جب بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے تو اکثر آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھاتے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے نبی کے دل کی کیفیت معلوم تھی کہ وہ کعبہ شریف (کو قبلہ بنانے) کی خواہش رکھتے ہیں۔ جبریل ؑ (آسمان کی طرف) بلند ہوئے تو جب وہ آسمان اور زمین کے درمیان بلند ہوتے جا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ یہ معلوم کرنے کی خواہش رکھتے تھے کہ جبریل ؑ کیا وحی لے کر نازل ہوں گے۔ (آخر کار) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِ ) ’’ہم آپ کے چہرے کو بار ابر آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔۔۔۔ ‘‘ ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: قبلہ ( بیت المقدس سے) کعبہ کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ ہم نے دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کی تھیں (اور ابھی نماز مکمل نہیں ہوئی تھی) ہم رکوع میں تھے (جب یہ خبر ملی) ہم نے (فوراً) رخ پھیر لیا اور جو نماز پڑھی جا چکی تھی، اس پر باقی نماز کی بنا کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے جبریل! ہماری بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی ہوئی نمازوں کا کیا حال ہوگا؟‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان (تہماری نمازیں) ضائع نہیں کریگا۔‘‘