ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
115
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
109
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
109
تمہید کتاب
تمہید باب
پیدائش اور نام و نسب: آپ کا نسب یوں ہے: سیدنا عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی اموی۔ اس طرح آپ کا نسب پانچویں پشت میں رسول اللہ ﷺ سے مل جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور ابع عمرو ہے جبکہ ذوالنورین اور امیر المومنین آپ کے لقب ہیں۔ آپ کی والدہ اوریٰ بنت کریز، رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی بیضاء کی صاحب زادی تھیں۔ حضرت عثمان اصھاب فیل کے واقعہ کے چھ سال بعد پیدا ہوئے اور بعژت نبوی کے وقت آپ کی عمر 36 برس تھی۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق کی تبلیغ سے مسلمان ہونے والے چوتھے شخص تھے۔٭حلیہ مبارک: حضرت عثمان میانہ قامت اور خوب صورت شخصیت کے مالک تھے۔ رنگت میں سرخی اور شخصیت میں وجاہت تھی۔ آپ کے شانے کشادہ، پنڈلیاں بھری ہوئی، ہاتھ لمبے اور ان پر بال تھے۔ سر کے بال گھنگھریالے تھے۔ داڑھی گھنی تھی اور بالوں کو زرد خضاب لگاتے تھے۔حضرت عمر فاروق کی شہادت کے بعد ان کی بنائی ہوئی شوریٰ نے حضرت عثمان کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا اور 24 ہجری کو محرم کے ابتدائی ایام میں آپ کی بیعت کی گئی۔ تقریبا 12 سال بطور خلیفہ امت مسلمہ کی خدمت کرنے کے بعد آپ 18 ذی الحجه 35 ہجری کو جمعہ کے دن شہید کر دیے گئے۔ اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی۔ آپ کی شہادت وہ سانحہ تھی جس کے بعد مسلمان کبھی متفق و متحد نہ ہو سکے۔ آپ کی شہادت پر صحابہ کرام رنج و غم کی جھلک ان کے مندرجہ ذیل تاثرات میں دیکھی جا سکتی ہے:(الف) حضرت علی ط کو اس عظیم سانحہ کا علم ہوا تو اپنے صاحب زادوں حضرت حسن اور حسین کو سرزنش کی کہ انہوں نے حضرت عثمان کا آخری دم تک دفاع کیوں نہ کیا۔ پھر بڑے دکھ بھرے انداز میں فرمایا: الہی! میں عثمان کے خون سے بری ہوں اور اے لوگو! اب تم ہمیشہ تباہی رہے گی۔ (ب) حضرت حذیفہ بن یمان نے فرمایا: عثمان کے خون سے وہ رخنہ پیدا ہو گیا ہے جسے پہاڑ بھی بند نہیں کر سکتا۔ (ج) حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: اگر ساری مخلوق اس قتل میں شریک ہوتی تو قوم لوط کی طرح اس پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہوتی۔ (ھ) ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: عثمان دھلے ہوئے کپڑے کی طرح پاک صاف ہو گئے، لوگوں نے انہیں قتل کر دیا، حالانکہ وہ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور اللہ کا خوف کھانے والے تھے۔ (و) حضرت حسان بن ثابت کہتے ہیں: لوگوں نے اس عظیم انسان کو قتل کر ڈالا جس کی پیشانی پر سجدوں کے نشان تھے اور وہ ساری رات تلاوت قرآن مین مشغول رہتا تھا۔ (ز) حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں: اس (عثمان) کی قبر میں بخشش، سخاوت اور سیاست دفن ہو گئی اور نیکی جو سب سے آگے بڑھ جاتی تھی۔حضرت عثمان نے کل آٹھ نکاح کیے۔ آپ کی ازواج اور اولاد کے نام یہ ہیں:٭حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ: ان سے آپ کے بیٹے عبداللہ پیدا ہوئے۔ انہی کی نسبت سے آپ کی کنیت ابوعبداللہ ہے۔٭حضرت ام کلثوم بنت رسول اللہ ﷺ: حضرت رقیہ کی وفات کے بعد نبی اکرم ﷺ نے اپنی دوسری پیاری بیٹی حضرت ام کلثام ؓ کا نکاح حضرت عثمان سے کیا، اس لیے حضرت عثمان کی کنیت ذوالنورین (دو نوروں والے) ہے۔٭ فاختہ بنت غزوان: ان سے عبداللہ اصغر پیدا ہوئے۔٭ ام عمرو بنت ضندب: ان سے آپ کے بیٹے عمرو، ابان، عمر اور مریم پیدا ہوئے۔٭ فاطمہ بنت ولید بن عبدشمس: ان سے آپ کے بیٹے ولید، سعید اور ام سعد پیدا ہوئے۔٭ ام البنین بنت عیینہ بن حصن الفزاریہ: ان کے بطن سے عبدالملک پیدا ہوئے۔٭رملہ بنت شیبہ: ان سے آپ کی تین صاجزادیاں تھیں: عائشہ، ام ابان اور ام عمرو۔٭ نائلہ بنت الفراضہ: ان سے ایک صاجزادی مریم پیدا ہوئیں۔ ان کے علاوہ آپ کی ایک اور صاجزادی ام البنین پیدا ہوئیں جن کی والدہ لونڈی تھیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر نبی کا جنت میں ایک ساتھی ہوتا ہے اور وہاں میرا ساتھی عثمان بن عفان ہے۔‘‘
حدیث حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا بہت سی صحیح احادیث کی بنا پر شک و شبہ سے بالا تر ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق (ساتھی) ہے، اور میرے رفیق (ساتھی) اس میں عثمان بن عفان ہیں۔“
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every Prophet (ﷺ) will have a friend in Paradise, and my friend there will be ‘Uthmân bin ‘Affân.” (Da’if)