قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1108.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سُئِلَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا قَالَ أَوَمَا تَقْرَأُ وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ غَرِيبٌ لَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحْدَهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: جمعے کے خطبے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1108.   حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓ سے روایت ہے ان سے سوال کیا گیا: کیا نبی ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے یا بیٹھ کر؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم یہ آیت نہیں پڑھتے: ﴿وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ ’’وہ آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘ امام ابو عبداللہ (ابن ماجہ) نے کہا یہ حدیث غریب ہے، اسے ابن شیبہ کے علاوہ کسی نے بیان نہیں کیا۔