موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ)
حکم : منکر
1159 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَقَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ قَالَتْ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: ظہر کی بعد والی دو سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا کرے؟
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1159. حضرت عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا معاویہ ؓ نے سیدہ ام سلمہ ؓ کی خدمت میں کسی کو بھیجا ۔ میں بھی اس کے ساتھ گیا۔ اس نے سیدہ ام سلمہ ؓ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے زکاة وصول کرنے کے لئے ایک آدمی بھیجا تھا اور آپ کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہو گئے تھے (جو زکاة و صدقات کے مستحق تھے) اور نبی ﷺ ان کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔ (انہی ایام میں ایک دن نبی ﷺ میرے گھر میں ظہر کی نماز کے لئے وضو کر رہے تھے) کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے۔ ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد آپ (مسجد میں) بیٹھ کر اس (زکاة وصول کرنے والے) کا لایا ہوا (زکاة) کا مال (مستحق افراد میں) تقسیم کرنے لگے۔ آپ عصر تک اسی کام میں مشغول رہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ میرے گھر میں تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ’’میں زکاة و صدقات لانے والے کے معاملہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے ظہر کے بعد ان دو رکعتوں کو نہیں پڑھ سکا تھا۔ اس لئے میں نے عصر کے بعد پڑھ لیں۔‘‘