قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

117 .   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ، فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ، فَقُلْنَا: لَوْ سَأَلْتَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ، وَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ» فَتَشَرَّفَ لَهُ النَّاسُ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: حضرت علی بن ابی طالب کے فضائل و مناقب

)
  تمہید باب

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

117.   حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ابو لیلیٰ ؓ رات کو حضرت علی ؓ کے ساتھ گفتگو میں شریک ہوتے تھے۔ حضرت علی ؓ سردیوں میں گرمیوں کا لباس اور گرمیوں میں سردیوں کا لباس پہن لیا کرتے تھے۔ ہم نے (ابو لیلیٰ ؓ سے) کہا، آپ ان (علی ؓ) سے اس کے متعلق دریافت کریں۔ (انہوں نے دریافت کیا تو) حضرت علی ؓ نے فرمایا: (جنگ) خیبر کے روز اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے بلا بھیجا، جب کہ میری آنکھیں دکھتی تھیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے آشوب چشم ہے۔ آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، اور فرمایا: ’’اے اللہ! اس سے گرمی اور سردی دور کر دے۔‘‘ اس دن کے بعد سے مجھے گرمی یا سردی محسوس نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں ضرور ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہےاور اس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے، وہ بھاگنے والا نہیں۔‘‘ لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے۔ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلا بھیجا اور انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔