موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ سَاهِيًا)
حکم : صحیح
1215 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنْ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَنَادَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: دو یا تین رکعت پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دینا؟
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1215. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر حجرے میں تشریف لے گئے۔ ایک لمبے ہاتھوں والے صاحب ، خرباق ؓ نے (باہر سے) آواز دی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ غصے کی کیفیت میں چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے اور (حاضرین سے معاملہ) دریافت کیا، آپ کو اس کی خبر دی گئی تو نبی ﷺ نے جو رکعت (غلطی سے) چھوڑ دی تھی وہ پڑھائی ، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔