قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

1216.   حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمْ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1216.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان نماز کے دوران میں کسی کے پاس آتا ہے، پھر اس کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، (وسوسے ڈالتا ہے) حتی کہ نمازیوں کو معلوم نہیں رہتا کہ اس نے زیادہ نماز پڑھی ہے یا کم۔ جب یہ صورت پیش آئے تو (نمازی کو چاہیے کہ) سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، پھر سلام پھیرے دے۔‘‘