Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Zubair)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
123.
حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے جنگ احد کے دن میرے لئے اپنے والدین کو جمع (ذکر) فرمایا۔
تشریح:
(1) والدین کا ذکر اور جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔‘‘ جنگ میں بہادری سے لڑنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر یہ الفاظ فرمائے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کے لیے اپنے والدین کو اس وقت بھی جمع کیا تھا جب وہ بنوقریظہ کی خبر لے کر آئے تھے۔ (صحيح البخاري، فضائل اصحاب النبي صلي الله عليه وسلم، باب مناقب الزبير...الخ‘ حديث:3720) (2) غزوہ اُحد کے دوران میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے بھی فرمایا تھا: ’’تیر چلاؤ! میرے ماں باپ تم پر قربان۔‘‘ (صحيح البخاري‘ الادب‘ باب قول الرجل‘ فداك ابي و امي‘ حديث:6184) (3) حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہما دونوں عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
129
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
123
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
123
تمہید کتاب
تمہید باب
٭پیدائش اور نام نسب: نام و نسب یوں ہے: حضرت زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن لوی قریشی اسدی۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت صفیہ نبی اکرم ﷺکی پھوپھی تھیں۔ آپ کے دادا حضرت خدیجہ ام المومنین ؓ کے والد تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی کنیت ابوطاہر رکھی جبکہ آپ نے ابوعبداللہ کنیت اختیار کی۔ تقریبا 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کیا تو آپ مسلمانوں میں چوتھے یا پانچوین نمبر پر تھے۔ آپ نے ہجرت مدینہ اور ہجرت حبشہ کا شرف حاصل کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے مواخاۃ میں انہیں سلمہ بن سلامہ بن دقش کا بھائی بنایا۔ حضرت زبیر ان دس خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں یہ عظیم شرف حاصل ہے کہ حضرت عثمان، عبدالرحمٰن بن عوف، مقداد اور حضرت عبداللہ بن مسعود جیسے اکابر صحابہ نے آپ کو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کی تھی، لہذا وہ ان صحابہ کی اولاد کے مال کی حفاظت کرتے تھے اور اپنے ذاتی مال سے ان کی دیکھ بھال فرماتے تھے۔ جنگ جمل میں حضرت زبیر حضرت علی کے ساتھ جنگ کرنے سے رک گئے اور لشکر سے الگ ہو کر وادی سباع میں تشریف لے گئے۔ وہاں حالت نماز میں ابن جرموز نامی شخص نے حضرت علی کے تقرب کے حصول کے لیے آپ کو شہید کر دیا۔ جب یہ شخص انعام و اکرام کے لالچ میں آپ کی تلوار لے کر حضرت علی کی خدمت میں پہنچا تو حضرت علی نے حاضری کی اجازت نہ دی بلکہ فرمایا: "حضرت زبیر کے قاتل کو جہنم کی خوش خبری سنا دو۔" اس طرح آپ 36 ہجری میں جمادی الاولیٰ کی دس تاریخ کو جمعرات کے دن شہید ہو گئے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا 64 سال تھی۔ .٭ حلیہ مبارک: حضرت زبیر بڑے وجیہ اور خوب صورت شخصیت کت مالک تھے۔ آپ کا قد دراز، جسم متوازن، رنگ گندمی، داڑھی چھدری اور سر کے بال لمبے تھے۔ شہادت کے وقت تک صحت انتہائی شاندار تھی۔٭ ازواج و اولاد: آپ کی ازواج اور اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:٭اسماء بنت ابی بکر: ان سے آپ کی بڑی نامور اولاد پیدا ہوئی، مثلا: حضرت عبداللہ، عروہ، منذر، عاصم، مہاجر، خدیجۃ الکبری، ام الحسن اور عائشہ۔٭ امۃ بنت خالد بن سعید بن عاص: ان کے بطن سے خالد، عمرو، حبیبہ، سودہ اور ہند پیدا ہوئے۔٭رباب بنت انیف بن عبید: حضرت معصب، حمزہ اور رملہ ان سے پیدا ہوئے۔٭ زینب: عبیدہ اور جعفر دو بیٹے ان سے پیدا ہوئے۔٭ ام کلثوم بنت عقبہ: ان سے صرف ایک بیٹی زینب پیدا ہوئی۔٭ حلال بنت قیس: ان سے بھی ایک بیٹی خدیجۃ الصغریٰ پیدا ہوئیں۔
حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے جنگ احد کے دن میرے لئے اپنے والدین کو جمع (ذکر) فرمایا۔
حدیث حاشیہ:
(1) والدین کا ذکر اور جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔‘‘ جنگ میں بہادری سے لڑنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر یہ الفاظ فرمائے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کے لیے اپنے والدین کو اس وقت بھی جمع کیا تھا جب وہ بنوقریظہ کی خبر لے کر آئے تھے۔ (صحيح البخاري، فضائل اصحاب النبي صلي الله عليه وسلم، باب مناقب الزبير...الخ‘ حديث:3720) (2) غزوہ اُحد کے دوران میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے بھی فرمایا تھا: ’’تیر چلاؤ! میرے ماں باپ تم پر قربان۔‘‘ (صحيح البخاري‘ الادب‘ باب قول الرجل‘ فداك ابي و امي‘ حديث:6184) (3) حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہما دونوں عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
زبیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔
حدیث حاشیہ:
۱؎: تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب ’’خندق‘‘ کا ہے، اس لئے ’’احد‘‘ کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ۲؎ : یعنی کہا: ’’میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں‘‘، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ ﷺ نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Zubair said: “The Messenger of Allah (ﷺ) named his parents together for me on the Day of Uhud.”