موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ)
حکم : صحیح
1263 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: سورج گرہن کی نماز
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1263. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں (ایک بار) سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ نے کھڑے ہو کر تکبیر(تحریمہ) کہی۔ صحابہ کرام آپ کے پیچھے صفیں باندھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے طویل قراءت فرمائی، پھر اللہ اکبرکہہ کر طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ) فرمایا: پھر قیام فرمایا اور طویل قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم طویل تھی، پھر اللہ اکبر کہہ کر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے مختصر تھا۔ پھر فرمایا: (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ) (اس کے بعد سجدے کر کے یہ رکعت مکمل کی) پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ اس طرح پورے چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ نبی ﷺ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اس میں اللہ کی شایانِ شان حمد و ثنا بیان فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا: ’’سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیوں ہیں انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں (گرہن لگا ہوا) دیکھو تو نماز کی طرف بھاگو۔‘‘