Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Talhah Bin 'Ubaidullih)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
127.
حضرت موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم معاویہ ؓ کے پاس تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ’’طلحہ ؓ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔‘‘
تشریح:
الحکم التفصیلی:
قال الألباني في "السلسلة الصحيحة" 1 / 195 :
أخرجه ابن سعد في " الطبقات " ( 3 / 1 / 155 ) أخبرنا سعيد بن منصور قال :
أنبأنا صالح بن موسى عن معاوية بن إسحاق عن عائشة بنت طلحة عن عائشة قالت :
" إني لفي بيتي ، و رسول الله صلى الله عليه وسلم و أصحابه بالفناء ، و بيني
و بينهم الستر ، أقبل طلحة بن عبيد الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "
فذكره .
و كذا رواه أبو يعلى في " مسنده " ( ق 232 / 1 ) و أبو نعيم في " الحلية "
( 1 / 88 ) من طريق أخرى عن صالح بن موسى به . و رواه أيضا الطبراني في
" الأوسط " كما في " المجمع " ( 9 / 148 ) و قال :
" و فيه صالح بن موسى و هو متروك " .
قلت : و لم ينفرد به ، فقد رواه إسحاق بن يحيى بن طلحة عن عمه موسى بن طلحة
قال : " بينما عائشة بنت طلحة تقول لأمها أم كلثوم بنت أبي بكر : أبي خير من
أبيك ، فقالت عائشة أم المؤمنين : ألا أقضي بينكما ؟ إن أبا بكر دخل على النبي
صلى الله عليه وسلم فقال : يا أبا بكر أنت عتيق الله من النار ، قالت : فمن
يومئذ سمي عتيقا ، و دخل طلحة على النبي صلى الله عليه وسلم فقال :
" أنت يا طلحة ممن قضى نحبه " .
أخرجه الحاكم ( 2 / 415 / 416 ) و قال : " صحيح الإسناد " .
و تعقبه الذهبي بقوله : " قلت : بل إسحاق متروك ، قاله أحمد " .
قلت : و مع ضعفه الشديد ، فقد اضطرب في إسناده ، فرواه مرة هكذا ، و مرة قال :
عن موسى بن طلحة قال : " دخلت على معاوية ، فقال : ألا أبشرك ؟ قلت : بلى قال :
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " طلحة ممن قضى نحبه " .
أخرجه ابن سعد ( 3 / 1 / 155 - 156 ) و الترمذي ( 2 / 219 ، 302 ) و قال :
" حديث غريب ، لا نعرفه إلا من هذا الوجه ، و إنما روي عن موسى بن طلحة عن
أبيه " .
قلت : ثم ساقه هو و أبو يعلى ( ق 45 / 1 ) و الضياء في " المختارة "
( 1 / 278 ) من طريق طلحة بن يحيى عن موسى و عيسى ابني طلحة عن أبيهما طلحة
أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا لأعرابي جاهل : سله عمن قضى نحبه
من هو ؟ و كانوا لا يجترؤون على مسألته ، يوقرونه و يهابونه ، فسأله الأعرابي ،
فأعرض عنه ، ثم سأله فأعرض عنه ، ثم إني اطلعت من باب المسجد و علي ثياب خضر ،
فلما رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : أين السائل عمن قضى نحبه ؟ قال :
أنا يا رسول الله ، قال : هذا ممن قضى نحبه .
و قال : " هذا حديث حسن غريب " .
قلت : و إسناده حسن رجاله ثقات رجال مسلم ، غير أن طلحة بن يحيى ، تكلم فيه
بعضهم من أجل حفظه ، و هو مع ذلك لا ينزل حديثه عن رتبة الحسن .
و لم ينفرد بالحديث ، فقد أخرجه الطبراني في " المعجم الكبير " ( 1 / 13 / 2 )
عن سليمان بن أيوب حدثني أبي عن جدي عن موسى بن طلحة عن أبيه قال : كان النبي
صلى الله عليه وسلم إذا رآني قال :
" من أحب أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله "
قلت : و هذا سند ضعيف سليمان هذا صاحب مناكير ، و قال ابن مهدي : " عامة
أحاديثه لا يتابع عليها " .
و قال الهيثمي في " المجمع " ( 9 / 149 ) :
" رواه الطبراني ، و فيه سليمان بن أيوب الطلحي ، و قد وثق ، و ضعفه جماعة ،
و فيه جماعة لم أعرفهم " .
و للحديث شاهد جيد مرسل بلفظ :
" من أراد أن ينظر إلى رجل قد قضى نحبه فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله " .
أخرجه ابن سعد ( 3 / 1 / 156 ) : أخبرنا هشام أبو الوليد الطيالسي قال :
حدثنا أبو عوانة عن حصين عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال :
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فذكره .
قلت : و هذا مرسل صحيح الإسناد رجاله كلهم ثقات رجال الشيخين .
ثم إن صالح بن موسى الذي في الطريق الأول قد رواه بإسناد آخر و لفظ آخر و هو :
" من سره أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله "
.
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
133
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
127
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
127
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ نام و نسب اور فضائل: نام و نسب یوں ہے: طلحہ بن عبدیاللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب قریشی تیمی اور کنیت ابومحمد ہے۔ آپ کو اسلام میں متعدد فضیلتیں حاصل ہیں مثلا: آپ خوش نصیب و بلند مرتبہ عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے ایک ہیں۔ اسلام قبول کرنے میں سبقت لینے والوں میں آپ کا نمبر آٹھواں اور ابوبکر صدیق کی دعوت و تبلیغ سے اسلام لانے والوں میں پانچواں نمبر ہے۔ اسی طرح آپ حضرت عمر فاروق کی بنائی ہوئی شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ آپ کا تعلق حضرت ابوبکر صدیق کے خاندان سے ہے۔ اسلام لانے کے بعد آپ کے بڑے بھائی عثمان نے آپ کو حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ ایک ہی رسی میں جکڑ کر سخت مارا پیٹا۔ حجرت عمر اسی واقعہ کی وجہ سے ان دو ساتھیوں کو "قرینین" کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ نے سترہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور آپ مکہ کے ان چند شرفاء میں سے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ نبی علیہ السلام نے انہیں سخاوت کی وجہ سے فیاض کا لقب عطا فرمایا۔ غزوہ حنین میں شجاعت دکھائی تو نبی علیہ السلام نے طلحة الجود کا لقب عطا کیا۔ حضرت طلحہ کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو دوسرے کسی صحابی کو نہیں، انہوں نے شار شادیاں کیں اور ان چاروں میں وہ نبی اکرم ﷺ کے ہم زلف تھے، یعنی انہوں نے ام المونین حضرت عائشہ کی بہن ام کلثوم، ام المومنین حضرت زینب کی بہن حمنہ، ام المومنین ام حبیبہ کی بہن فارعہ اور ام المومنین ام سلمہ کی بہن رقیہ سے شادی کی۔
٭ حلیہ مبارک: آپ درمیانے قد، گندمی رنگ، شگفتہ صورت اور باریک ناک والے تھے۔ آخر دم تک چاق چوبند تھے اور بڑھاپے کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
آپ جنگ جمل میں مروان بن حکم کے تیر سے زخمی ہو کر فوت ہوئے۔ اس طرح آپ 64 برس کی عمر میں 36 ہجری کو جمعرات کے دن جمادی الآخرہ کی دس تاریخ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ حضرت طلحہ نے کل سات شادیاں کیں اور دو لونڈیاں بھی آپ کے پاس تھیں۔ ان سے کل گیارہ بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
حضرت موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم معاویہ ؓ کے پاس تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ’’طلحہ ؓ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔‘‘
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا“ ۱؎ ۔
حدیث حاشیہ:
۱؎ : پوری آیت یوں ہے: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾ یعنی ’’مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا ، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘(سورة الأحزاب:23)۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Musa bin Talhah said: We were with Mu’âwiyah and he said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Talhah is one of those who fulfilled their covenant.’(Hasan)