قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

1272.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَمَا نَزَلَ حَتَّى جَيَّشَ كُلُّ مِيزَابٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نماز استسقاء میں دعا مانگنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1272.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہےانہوں نے فرمایا: میں بعض اوقات رسول اللہ ﷺ کے چہرہٴ اقدس کو دیکھتا جب کہ آپ منبر پر (بارش کی دعا کے لیے) تشریف فرما ہوتے اور آپ کے منبر پر اترنے سے پہلے مدینے کا ہر پرنالہ پورے زور سے بہنے لگتا تو مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آجاتا ۔ وہ سفید فام شخصیت (رسول اکرم ﷺ ) جس کے چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے یتیموں کا نگہبان، بیواؤں کا محافظ۔، یہ ابو طالب کا کلام ہے۔