قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍؓ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

129 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ سَعْدُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل و مناقب

)
  تمہید باب

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

129.   حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سعد بن مالک ؓ کے سوا کسی صحابی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے ماں باپ قربان ہونے کے الفاظ نہیں سنے۔ صرف انہیں آپ ﷺ نے غزوہٴ احد کے موقع پر فرمایا تھا: ’’سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔‘‘