قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ فِي حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1338 .   حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ أَيْنَ كُنْتِ قُلْتُ كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَاءَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ هَذَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: خوبصورت آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1338.   حضرت ام المومنین عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ایک رات عشاء کے بعد مجھے (حاضر خدمت ہونے میں) دیر ہوگئی پھر میں آئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم کہاں تھیں؟ ‘‘ میں نے کہا: میں آپ کے ایک صحابی کی قراءت سن رہی تھی، میں نے کسی اور کی ایسی (عمدہ) قراءت اور آواز نہیں سنی۔ ام المومنین نے بیان فرمایا: اللہ کے نبی اٹھ کھڑے ہوئے میں بھی اٹھ کر آپ کے ساتھ گئی حتی کہ آپ ﷺ نے بھی اس کی قراءت سنی، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’یہ ابو حذیفہ ؓ مولیٰ سالم ہیں۔ اللہ کی تعریف ہے (اور اس کا شکر ہے) جس نے میری امت میں ایسے افراد پیدا فرمائے۔‘‘