Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Khabbab)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
153.
حضرت ابو لیلیٰ کندی ؓرحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت خباب ؓ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: قریب آکر بیٹھو، اس جگہ بیٹھنے کا حق آپ سے زیادہ کسی کو نہیں، سوائے عمار ؓ کے۔ پھر حضرت خباب ؓ حضرت عمر ؓ کو مشرکین کی اذیتوں کے نتیجے میں کمر پر پڑجانے والے نشانات دکھانے لگے۔
تشریح:
(1) یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپس میں ایک دوسرے سے محبت اور ہمدردی کرنے والے تھے۔ (2) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو اپنے قریب بٹھایا، اس سے ان کی عزت افزائی بھی مقصود تھی اور اظہار محبت بھی۔ (3) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نظر میں حضرت عمار، حضرت خباب اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہوں نے اللہ کی راہ میں تکلیفیں برداشت کی تھیں، بہت زیادہ قابل قدر اور قابل احترام تھے۔ (4) جو لوگ دین کے لیے محنت کریں اور تکلیفیں برداشت کریں، مسلمان حکومتوں یا جماعتوں کے قائدین کو چاہیے کہ ان کو کما حقہ مقام اور عزت و شرف سے نوازیں۔ (5) حضرت خباب رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخموں کے نشانات دکھانا ریاکاری میں شامل نہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تمام شدائد کے عینی گواہ تھے جو سابق الاسلام صحابہ کرام کو مشرکین کے ہاتھوں برداشت کرنے پڑے تھے بلکہ (بطور تحدیث نعمت) مقصد اللہ کے احسانات کو یاد کرنا تھا کہ اس نے ان ایام میں استقامت بخشی اور بعد میں اسلام کو غلبہ عطا فرمایا اور ان مصائب سے نجات بخشی۔
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
159
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
153
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
153
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ حجرت خباب بن الارت : نام و نسب:، خباب بن الارت بن جندلہ بن سعد بن خزیمہ التمیمی۔ آپ کی کنیت ابوعبداللہ یا ابواحمد یا ابویحییٰ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں کسی قبیلے کی لوٹ مار کی وجہ سے غلام بن گئے اور مکہ مکرمہ میں فروخت کر دیے گئے۔ ام انمار بنت سباع الخزاعیہ نے آپ کو خرید لیا۔ ابتدائے اسلام میں سملمان ہونے اور با آواز بلند اسلام کا اظہار کرنے والوں میں آپ کا چھٹا نمبر ہے۔ کفار نے انہیں تپتے ہوئے پتھروں سے اذیتیں دیں جس سے آپ کی کمر کا گوشت جل بھن گیا، لیکن ان سب باتوں کے باوجود بھی آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ حضرت خباب تلواریں ڈھالنے کا کام کرتے تھے۔ رسول اکرم ﷺ آپ کی تالیف قلب کے لیے آپ کے پاس تشریف لاتے۔ اس کی خبر آپ کی مالکہ کو ہوئی تو اس نے تپتا ہوا لوہا آپ کے سر پر رکھ کر اذیت دینا شروع کر دی۔ حضرت خباب نے نبی اکرم سے شکایت کی تو آپ نے دعا فرمائی: "الہی! خباب کی مدد فرما۔" ام انمار مالکہ کے سر میں ایسی بیماری لگ گئی کہ وہ کتوں کی طرح چیخنے اور بھونکنے لگی۔ اسے اس کا علاج یہ بتایا گیا کہ سر میں گرم سلاخ سے داغ لگواؤ، لہا اس کے حکم سے حضرت خباب اس کے سر پر سلاخ گرم کر کے لگاتے تو اسے چند لمحوں کے لیے سکون ملتا پھر وہی کیفیت ہو جاتی۔ اسے کہتے ہیں: "جیسی کرنی ویسی بھرنی۔" 37 ہجری میں آپ طویل بیماری کے بعد فوت ہو گئے۔ حضرت علی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور کوفہ میں دفن ہونے والے پہلے آپ ہیں۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 73 برس تھی۔ (اسد الغابۃ:2/147-150)
حضرت ابو لیلیٰ کندی ؓرحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت خباب ؓ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: قریب آکر بیٹھو، اس جگہ بیٹھنے کا حق آپ سے زیادہ کسی کو نہیں، سوائے عمار ؓ کے۔ پھر حضرت خباب ؓ حضرت عمر ؓ کو مشرکین کی اذیتوں کے نتیجے میں کمر پر پڑجانے والے نشانات دکھانے لگے۔
حدیث حاشیہ:
(1) یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپس میں ایک دوسرے سے محبت اور ہمدردی کرنے والے تھے۔ (2) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو اپنے قریب بٹھایا، اس سے ان کی عزت افزائی بھی مقصود تھی اور اظہار محبت بھی۔ (3) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نظر میں حضرت عمار، حضرت خباب اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہوں نے اللہ کی راہ میں تکلیفیں برداشت کی تھیں، بہت زیادہ قابل قدر اور قابل احترام تھے۔ (4) جو لوگ دین کے لیے محنت کریں اور تکلیفیں برداشت کریں، مسلمان حکومتوں یا جماعتوں کے قائدین کو چاہیے کہ ان کو کما حقہ مقام اور عزت و شرف سے نوازیں۔ (5) حضرت خباب رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخموں کے نشانات دکھانا ریاکاری میں شامل نہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تمام شدائد کے عینی گواہ تھے جو سابق الاسلام صحابہ کرام کو مشرکین کے ہاتھوں برداشت کرنے پڑے تھے بلکہ (بطور تحدیث نعمت) مقصد اللہ کے احسانات کو یاد کرنا تھا کہ اس نے ان ایام میں استقامت بخشی اور بعد میں اسلام کو غلبہ عطا فرمایا اور ان مصائب سے نجات بخشی۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب ؓ عمر ؓ کے پاس آئے، تو عمر ؓ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار ؓ کے، پھر خباب ؓ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ۱؎ ۔
حدیث حاشیہ:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب فضل و کمال کو مجلس میں ممتاز مقام پر رکھنا چاہیے، عمر رضی اللہ عنہ افاضل صحابہ کو اپنے پاس جگہ دیتے تھے، عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائی تھیں اس لئے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی یاد کیا، اور معلوم ہوا کہ کسی کی تعریف اس کے سامنے اگر اس سے خود پسندی اور عجب کا ڈر نہ ہو تو جائز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اس اعتبار سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں ہیں، جیسے خباب رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم کے نشان دکھائے کہ جو ایک نعمت الٰہی تھی، اور جو اللہ کے نزدیک بلندی درجات کا سبب ہوئی۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Abu Laila Al-Kindi said: “Khabbâb came to ‘Umar and said: ‘Come close, for no one deserves this meeting more than you, except ‘Animâr.’ Then Khabbâb started to show him the marks on his back where the idolaters had tortured him.” (Da’if)