Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Khabbab)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
155.
دوسری سند سے اسی حدیث میں یہ الفاظ ہیں ’’فرائض (وارثوں کے حصوں) کا زیادہ علم رکھنے والے زید بن ثابت ؓہیں۔‘‘
تشریح:
(1) اس حدیث میں بعض صحابہ کرام ؓ کی امتیازی خوبیاںبیان کی گئی ہیں، ہر صحابی جس صفت میںدوسروں سے ممتاز ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم صحابہ کرام ؓ میں ہر قسم کی خوبیاں موجود تھیں (2) قائد کو اپنے ساتھیوں کی خوبیوں کا علم ہونا چاہیےتاکہ ہر شخص کو وہ فرائض سونپے جائیں جنھیں وہ ادا کرنے کی اہلیت زیادہ رکھتا ہو۔ (3) مختلف علماء الگ الگ شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، ہر علم کے لیے اس کے ماہر عالم کی طرف رجوع کرنا چاہیے، ان سب کی اہمیت، معاشرے میں ان کی ضرورت اور ان کی قدرومنزلت برابر ہے۔
الحکم التفصیلی:
قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 3 / 223 :
أخرجه الترمذي ( 2 / 309 ) و ابن ماجه ( 154 ) و ابن حبان ( 2218 ) و ( 2219 )
و الحاكم ( 3 / 422 ) من طريق عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي حدثنا خالد
الحذاء عن أبي قلابة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
فذكره ، و قال الترمذي : " حديث حسن صحيح " . و قال الحاكم : " هذا إسناد صحيح
على شرط الشيخين " . و وافقه الذهبي و هو كما قالا . و تابعه سفيان الثوري عن
خالد الحذاء به . أخرجه أحمد ( 3 / 184 ) و الطحاوي في " مشكل الآثار " ( 1 /
351 ) و أبو نعيم ( 3 / 122 ) و ابن عساكر في " تاريخ دمشق " ( 2 / 296 / 2 و 6
/ 282 / 2 و 11 / 97 / 2 ) و البغوي في " شرح السنة " ( 3 / 534 / 2 ) نسخة
المكتب الإسلامي ) . و تابعه أيضا وهيب حدثنا خالد الحذاء به . أخرجه أحمد ( 3
/ 280 ) و الطحاوي و كذا الطيالسي ( 2096 ) . و تابعه على الجملة الأخيرة منه
عبد الأعلى بن عبد الأعلى عند البخاري ( 7 / 73 ) . و إسماعيل بن علية عند مسلم
( 7 / 129 ) و صرح الأول بتحديث أبي قلابة عن أنس . و قد أعل الحديث بعلة غريبة
، فقال الحافظ في " الفتح " بعدما عزاه للترمذي و ابن حبان : " و إسناده صحيح ،
إلا أن الحافظ قال : إن الصواب في أوله الإرسال و الموصول منه ما اقتصر عليه
البخاري . و الله أعلم " . و للحديث طريق أخرى ، فقال الترمذي : حدثنا سفيان بن
وكيع حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن داود العطار عن معمر عن قتادة عن أنس بن مالك
مرفوعا به . و قال : " حديث غريب لا نعرفه من حديث قتادة إلا من هذا الوجه و قد
رواه أبو قلابة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه و المشهور حديث أبي
قلابة " .
قلت : و رجاله كلهم ثقات رجال مسلم غير سفيان بن وكيع قال الحافظ : " كان صدوقا
إلا أنه ابتلي بوراقه ، فأدخل عليه ما ليس من حديثه ، فنصح فلم يقبل ، فسقط
حديثه " . و للحديث شواهد من حديث ابن عمر من طريقين عنه و أبي محجن و الحسن
البصري مرسلا بعضها مطولا و بعضها مختصر ، أخرجها ابن عساكر ( 2 / 296 / 2 و 6
/ 282 / 2 و 11 / 97 / 2 ) بأسانيد ضعيفة ، و أخرج أبو يعلى في " مسنده " ( 4 /
1384 ) الطريق الأولى عن ابن عمر ، و الحاكم ( 3 / 535 ) الطريق الأخرى عنه ،
و أبو نعيم في " الحلية " ( 1 / 56 ) و زاد في رواية : " و أكرمها " . و فيه
زكريا بن يحيى المنقري و لم أعرفه ، و وقع في " المناوي " زكريا بن يحيى
المقرىء و هو تصحيف . و أخرجه ابن عساكر ( 13 / 370 / 2 - 371 / 1 ) من طريق
الطبراني بإسناده عن مندل بن علي عن ابن جريج عن محمد بن المنكدر عن جابر
مرفوعا نحوه و زاد في آخره : " و قد أوتي عمير عبادة . يعني أبا الدرداء " .
و مندل ضعيف . و روى أبو نعيم في " الحلية " ( 1 / 56 ) من طريق عبد الأعلى
السامي عن عبيد الله بن عمر ، و من طريق الكوثر بن حكيم كلاهما عن نافع عن ابن
عمر مرفوعا بلفظ : " أشد أمتي حياء عثمان بن عفان " . زاد في رواية " و أكرمها
قلت : و الكوثر هذا قال الدارقطني و غيره : متروك . لكن تابعه السامي كما ترى ،
و هو ثقة و اسمه عبد الأعلى بن عبد الأعلى . لكن في الطريق إليه زكريا ابن يحيى
المنقري و لم أجد له ترجمة .
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
161
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
155
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
155
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ حجرت خباب بن الارت : نام و نسب:، خباب بن الارت بن جندلہ بن سعد بن خزیمہ التمیمی۔ آپ کی کنیت ابوعبداللہ یا ابواحمد یا ابویحییٰ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں کسی قبیلے کی لوٹ مار کی وجہ سے غلام بن گئے اور مکہ مکرمہ میں فروخت کر دیے گئے۔ ام انمار بنت سباع الخزاعیہ نے آپ کو خرید لیا۔ ابتدائے اسلام میں سملمان ہونے اور با آواز بلند اسلام کا اظہار کرنے والوں میں آپ کا چھٹا نمبر ہے۔ کفار نے انہیں تپتے ہوئے پتھروں سے اذیتیں دیں جس سے آپ کی کمر کا گوشت جل بھن گیا، لیکن ان سب باتوں کے باوجود بھی آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ حضرت خباب تلواریں ڈھالنے کا کام کرتے تھے۔ رسول اکرم ﷺ آپ کی تالیف قلب کے لیے آپ کے پاس تشریف لاتے۔ اس کی خبر آپ کی مالکہ کو ہوئی تو اس نے تپتا ہوا لوہا آپ کے سر پر رکھ کر اذیت دینا شروع کر دی۔ حضرت خباب نے نبی اکرم سے شکایت کی تو آپ نے دعا فرمائی: "الہی! خباب کی مدد فرما۔" ام انمار مالکہ کے سر میں ایسی بیماری لگ گئی کہ وہ کتوں کی طرح چیخنے اور بھونکنے لگی۔ اسے اس کا علاج یہ بتایا گیا کہ سر میں گرم سلاخ سے داغ لگواؤ، لہا اس کے حکم سے حضرت خباب اس کے سر پر سلاخ گرم کر کے لگاتے تو اسے چند لمحوں کے لیے سکون ملتا پھر وہی کیفیت ہو جاتی۔ اسے کہتے ہیں: "جیسی کرنی ویسی بھرنی۔" 37 ہجری میں آپ طویل بیماری کے بعد فوت ہو گئے۔ حضرت علی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور کوفہ میں دفن ہونے والے پہلے آپ ہیں۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 73 برس تھی۔ (اسد الغابۃ:2/147-150)
دوسری سند سے اسی حدیث میں یہ الفاظ ہیں ’’فرائض (وارثوں کے حصوں) کا زیادہ علم رکھنے والے زید بن ثابت ؓہیں۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) اس حدیث میں بعض صحابہ کرام ؓ کی امتیازی خوبیاںبیان کی گئی ہیں، ہر صحابی جس صفت میںدوسروں سے ممتاز ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم صحابہ کرام ؓ میں ہر قسم کی خوبیاں موجود تھیں (2) قائد کو اپنے ساتھیوں کی خوبیوں کا علم ہونا چاہیےتاکہ ہر شخص کو وہ فرائض سونپے جائیں جنھیں وہ ادا کرنے کی اہلیت زیادہ رکھتا ہو۔ (3) مختلف علماء الگ الگ شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، ہر علم کے لیے اس کے ماہر عالم کی طرف رجوع کرنا چاہیے، ان سب کی اہمیت، معاشرے میں ان کی ضرورت اور ان کی قدرومنزلت برابر ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت ؓ کے حق میں : ’’أَفرَضُهُم‘‘ کے بجائے ’’وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ‘‘ ہے ۔
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated from Anas bin Mâlik that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The most merciful of my Ummah towards my Ummah is Abu Bakr; the one who adheres most sternly to the religion of Allah is ‘Umar; the most sincere of them in shyness and modesty is ‘Uthmân; the best judge is ‘Ali bin Abu Thlib; the best in reciting the Book of Allah is Ubayy bin Ka’b; the most knowledgeable of what is lawful and unlawful is Mu’âdh bin Jabal; and the most knowledgeable of the rules of inheritance (Fard’id) is Zaid bin Thâbit. And every nation has a trustworthy guardian, and the trustworthy guardian of this Ummah is Abu ‘Ubaidah bin Jarráh.” (Sahih)