Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Abu Aharr)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
156.
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ؓ سےسنا آپ نے فرمایا: ’’ابو ذر ؓ سے بڑھ کر بات میں سچا آدمی نہ زمین نے اٹھایا، نہ آسمان نے اس پر سایہ کیا۔‘‘
تشریح:
(1) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ روئے زمین پر آسمان کے نیچے ابوذر رضی اللہ عنہ سے زیادہ راست گفتار کوئی نہیں۔ یہ ان کے ہر حال میں سچ بولنے کی تعریف ہے۔ (2) اس سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں راست گفتاری کے علاوہ اور بہت سی خوبیاں بھی تھیں، جن میں وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ اہل سنت کا اتفاق ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کے بعد سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر باقی خلفائے راشدین، پھر عشرہ مبشرہ میں سے باقی حضرات اور ان کے بعد مختلف اعتبارات سے صحابہ کرام کی افضیلت ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنھم۔
الحکم التفصیلی:
قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 5 / 453 :
أخرجه ابن سعد في " الطبقات " ( 4 / 228 ) عن أبي أمية بن يعلى عن أبي الزناد
عن الأعرج عن أبي هريرة مرفوعا . قلت : و هذا إسناد ضعيف ، رجاله ثقات رجال
الشيخين غير أبي أمية هذا - و اسمه إسماعيل - أورده الذهبي في " المغني " ، و
قال : " ضعفه الدارقطني " . لكن للحديث شواهد يتقوى بها : الأول : عن أبي ذر
نفسه قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما تقل الغبراء و لا تظل
الخضراء على ذي لهجة أصدق و أوفى من أبي ذر ، شبيه عيسى بن مريم ، فاعرفوا له "
. أخرجه ابن حبان ( 2258 ) و الحاكم ( 3 / 342 ) عن النضر بن محمد حدثنا عكرمة
بن عمار حدثنا أبو زميل عن مالك بن مرثد عن أبيه عنه . و قال الحاكم : " صحيح
على شرط مسلم " ، و وافقه الذهبي . قلت : و هو كما قالا ، على ضعف يسير في
عكرمة بن عمار ، قال الحافظ : " صدوق يغلط ، و في روايته عن يحيى بن أبي كثير
اضطراب " . الثاني : عن مالك بن دينار مرسلا إلا أنه قال : " زهد " بدل " تواضع
" . أخرجه ابن سعد أخبرنا مسلم بن دينار قال : حدثنا سلام بن مسكين قال : حدثنا
مالك بن دينار أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : فذكره . قلت : و هذا إسناد
مرسل صحيح ، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مالك بن دينار و هو صدوق .
الثالث : عن إبراهيم الهجري رفع الحديث إلى عبد الله بن مسعود مرفوعا بلفظ : "
من سره أن ينظر إلى شبيه عيسى ابن مريم خلقا و خلقا فلينظر إلى أبي ذر " .
أخرجه الطبراني في " الكبير " ( 1 / 171 / 1 - 2 ) . و هذا إسناد منقطع ضعيف .
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ؓ سےسنا آپ نے فرمایا: ’’ابو ذر ؓ سے بڑھ کر بات میں سچا آدمی نہ زمین نے اٹھایا، نہ آسمان نے اس پر سایہ کیا۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ روئے زمین پر آسمان کے نیچے ابوذر رضی اللہ عنہ سے زیادہ راست گفتار کوئی نہیں۔ یہ ان کے ہر حال میں سچ بولنے کی تعریف ہے۔ (2) اس سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں راست گفتاری کے علاوہ اور بہت سی خوبیاں بھی تھیں، جن میں وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ اہل سنت کا اتفاق ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کے بعد سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر باقی خلفائے راشدین، پھر عشرہ مبشرہ میں سے باقی حضرات اور ان کے بعد مختلف اعتبارات سے صحابہ کرام کی افضیلت ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنھم۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر ؓ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو۔‘‘
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amir said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There is no one on earth, or under the sky, who speaks more truthfully than Abu Dharr.’” (Hasan)