قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1573 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ «فِي النَّارِ» قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَبُوكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ مُشْرِكٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ» قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، وَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : مشرکوں کی قبروں کی زیارت کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1573.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا والد صلہ رحمی کرتا تھا، اور اس میں فلاں فلاں خوبیاں تھیِ وہ کہاں ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جہنم میں ہے۔ ‘‘ اس کو یہ جواب گویا ناگوار تو کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تو جہاں بھی کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرے تو اسے جہنم کی خوش خبر دے دے۔‘‘ بعد میں اس اعرابی نے اسلام قبول کر لیا ( بعد میں یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے) اس نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مشکل کام میرے ذمے لگا دیا ہے، جب بھی میرا گزر کسی کافر کی قبر کے پاس سے ہوتا ہے میں اسے جہنم کی خوشخبری دیتا ہوں۔