قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1722 .   حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَيَوْمُ الْأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

 

تمہید کتاب  (

باب: عیدین کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1722.   حضرت ابو عبید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید میں حاضر تھا۔ امیر المومنین نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور (نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ان دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، یعنی عید الفطر کے دن اور عید الاضحیٰ کے دن۔ عید الفطر کا دن تو تمہارا روزوں سے فارغ ہونے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ کے دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔